نئی دہلی،5/دسمبر(ایس او نیوز/ایجسنی) ہندوستانی کابینہ نے بنگلادیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے متنازع ترمیمی بل’’سی اے بی‘‘ کی منظوری دے دی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مودی سرکار کی کابینہ نے اس بل کی منظوری بدھ کے روز دی۔ ہندوستان میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے دفعہ 370 کی منسوخی سے متعلق بل کے بعد ’’سی اے بی‘‘ کو ہندوقوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک اور بڑا اقدام قرار دیا جارہا ہے۔ اس بل کو قانونی شکل دینے کے لیے رواں ہفتے کسی بھی روز پارلیمان میں پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں اور شمال مشرقی ریاستوں کی بیشتر تنظیموں کے علاوہ حکمراں قومی جمہوری اتحاد ’’این ڈی اے‘‘ کی کئی حلیف جماعتیں بھی اس بل کی مخالفت کررہی ہیں۔ اس بل کے ذریعہ ہندوستان کے موجودہ شہریت قانون 1955میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت پاکستان، بنگلادیش اور افغانستان سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بودھ، جین، پارسی اور مسیحی مذہب کے لوگوں کو شہریت دی جائے گی۔ ایسے افراد کو اب ہندوستان میں صرف 6 برس رہنے کے بعد ہی شہریت مل جائے گی۔ اب تک اس کے لیے انہیں کم از کم 11 برس انتظار کرنا پڑتا تھا۔ مخالفت کی بنیادی وجہ مذہب ہے۔ ’’سی اے بی‘‘ میں مسلمانوں کو چھوڑ کر دیگر مذاہب کے لوگوں کو شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اسے مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے والا فیصلہ قرار دیا جارہا ہے، جب کہ بھارتی آئین کے مطابق ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور یہاں مذہب کی بنیاد پر تقسیم جائز نہیں ہے۔ ’’سی اے بی‘‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے۔ مودی حکومت نے 2016ء میں بھی اس بل کو پارلیمان میں پیش کیا تھا اور بعد میں لوک سبھا میں منظور بھی ہوگیا تھا، لیکن لوک سبھا کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے اسے ایوان بالا میں بھیجا نہیں جاسکا تھا۔ اب حکومت پارلیمان میں اسے دوبارہ پیش کر رہی ہے۔ بی جے پی نے اپنے تمام ارکان کو ایوان میں مستقل حاضر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ دفعہ 370کو ختم کرنے کے لیے بل پیش کرنے سے قبل بھی پارٹی نے اسی طرح کی ہدایت جاری کی تھی۔ دراصل اس بل میں بی جے پی اپنا کافی سیاسی فائدہ دیکھ رہی ہے۔ شمال مغربی ریاست آسام اور مغربی بنگال جیسے صوبوں میں غیر قانونی شہریوں کا معاملہ کافی اہم رہا ہے۔